Aaye Thay Tabassum Liye Huwe / آئے تھے تبسم لئے ہوئے

آئے تھے تبسم لئے ہوئے
بزم سے چلے غم لئے ہوئے

نفرتیں مٹانے چلے ہیں ہم
چاہتوں کا پرچھم لئے ہوئے

رنج کی دوا  کوئی  اے خدا
آئے ابنِ مریم لئے ہوئے

یاد ہے وہ دن!  بے وفائی کا؟
دیر تک  تھا پرنم لئے ہوئے

دے مری خطا کی جو  ہو سزا
میں کھڑا ہوں سر خم لئے ہوئے
 
کب سے ہوں میں اس انتظار میں
آؤ گے خوشی تُم لئے ہوئے

 کٹ رہی ہے  مہتاب زندگی
 یاد اُن  کی  پیہم لئے ہوئے

(بشیر مہتاب)

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے