Posts

Showing posts from May, 2017

Ye Kon Aagaya Hai Ye Kaisi Bahaar Hai / یہ کون آگیا ہے یہ کیسی بہار ہے

یہ کون آگیا ہے یہ کیسی بہار ہے
کافی دنوں سےقلب مرا خوشگوار ہے

میں اس لئے بھی دور سیاست سے رہتا ہوں
اس کی لگائی آگ حدوں سے بھی پار ہے
چاہت کی بات کرتےہونفرت کےشہر میں
 چھوڑو یہاں تو جھوٹ پہ دارومدار ہے

آنکھیں تجھی کو ڈھونڈ رہی ہیں گلی گلی
دل میں تری تڑپ ہے لبوں پر پکار ہے

شعروسخن کی بات جوکرتےہیں رات دن
ان میں ادب تو کم ہے حسد بے شمار ہے

مہتاب تیرےشہرساکوئی نہیں ہےشہر
رغبت دلوں میں سب کے ہے آپس میں پیار ہے
(بشیر مہتاب)

Hairat Hai Mera Ghearay Huway Raasta Hai Kon / حیرت ہے میرا گھیرے ہوئے راستا ہے کون

حیرت ہے میرا گھیرے ہوئے  راستا ہے کون
اس شہرمیں نیاہوں مجھےجانتا ہے کون ہوئے
گھر سے الگ  ہوئے ہیں تو معلوم یہ ہوا
لوگو ! کسی کےحق میں یہاں  سوچتا ہے کون

 گھر آج بھی اُجڑتے ہیں ویران ہوتے ہیں
سب کھیل دیکھتے ہیں،مگر بولتا ہے کون

غفلت کی نیند سوئے ہیں سب جانتا ہوں میں
لیکن مرے جگانے سےبھی جاگتا ہے کون

کوئی تو  میرا  سامنا  کرتا  ہے  بار  بار
ورنہ یہ بام و در سے اِدھرجھانکتا ہے کون

مہتاب تیرے اپنے  پرائے ہوئے تمام
 اب جانتے ہیں سب تجھے پہچانتا ہے کون (بشیر مہتاب)

Uljhan Si Hai Dhadkan Main / الجھن سی ہےدھڑکن میں

الجھن سی ہےدھڑکن میں
 کتنے درد  ہیں جوبن میں

ایسا بندھا ہوں بندھن میں
 دل  جلتا  ہے  ساون  میں

 اپنے  چہرے   کو   دیکھو
عیب نہ ڈھونڈو درپن میں

کون  پرندوں  کو   دیکھے
آگ   لگی   ہے  گلشن  میں

اب  تو  بھ

Maa Ho Raazi To Khuda Bhi Meharbaa'n Hojayega / ماں ہو راضی تو خدا بھی مہرباں ہو جائے گا

ماں ہو راضی تو خدا بھی مہرباں ہو جائے گا
دھوپ میں بھی تیرے سر پر سائباں ہو جائے گا

سامنے آیا نہ کر جب میں کہانی لکھتا ہوں
تیرا قصہ لکھتے لکھتے داستاں ہو جائے گا

اُس کی سوچیں مختلف ہیں اور دل میں اک جنون
وہ اگر بڑھتا رہے گا  آسماں ہو جائے گا

ایک بندہ ایک ہی پودا لگائے روز اگر
اک نہ اک دن شہر اپنا گلستاں ہو جائے گا

مال و دولت کچھ نہیں ہے یہ  یقیں ہو جائے تو
ماندِ ست یگ کے اپنا یہ جہاں ہو جائے گا

تم اکیلے ہی چلو گے جانبِ  منزل اگر
لوگ آ تے جائنگےاور کارواں ہو جائے گا

بار بار اپنی صفائی دو نہ  اُس کے سامنے
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

 اشک تیری آنکھوں سے باہر نہ آئیں گے اگر
آخرش مہتاب تیرا غم نہاں ہو جائے گا (بشیر مہتاب)