Maa Ho Raazi To Khuda Bhi Meharbaa'n Hojayega / ماں ہو راضی تو خدا بھی مہرباں ہو جائے گا

ماں ہو راضی تو خدا بھی مہرباں ہو جائے گا
دھوپ میں بھی تیرے سر پر سائباں ہو جائے گا

سامنے آیا نہ کر جب میں کہانی لکھتا ہوں
تیرا قصہ لکھتے لکھتے داستاں ہو جائے گا

اُس کی سوچیں مختلف ہیں اور دل میں اک جنون
وہ اگر بڑھتا رہے گا  آسماں ہو جائے گا

ایک بندہ ایک ہی پودا لگائے روز اگر
اک نہ اک دن شہر اپنا گلستاں ہو جائے گا

مال و دولت کچھ نہیں ہے یہ  یقیں ہو جائے تو
ماندِ ست یگ کے اپنا یہ جہاں ہو جائے گا

تم اکیلے ہی چلو گے جانبِ  منزل اگر
لوگ آ تے جائنگےاور کارواں ہو جائے گا

بار بار اپنی صفائی دو نہ  اُس کے سامنے
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

 اشک تیری آنکھوں سے باہر نہ آئیں گے اگر
آخرش مہتاب تیرا غم نہاں ہو جائے گا
 
(بشیر مہتاب)

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے