Posts

Showing posts from December, 2016

Na Aaya Tarass Aazmanay Se Pehlay / نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے

نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے
ذرا بھی نہ سوچا بھلانے سے پہلے
جو اشکوں کے گرنے سے ڈرتی تھی بے حد
اسے تھامتے تم رلانے سے پہلے تڑپ اس کے اندر تھی بدلے کی لیکن
نہایت وہ روئی رلانے سے پہلے مرے قلب تیری خطائیں ہیں ساری
ذرا فکر کرتا بھلانے سے پہلے بہت ہی کٹھن راستہ ہے وفا کا
ذرا سوچتے دل لگانے سے پہلے یقیناً ہی سو بار سوچے گا وہ بھی
صنم فون میرا اٹھانے سے پہلے خیال اپنے اشکوں کا رکھنا تھا تم کو
خیالی فسانہ سنانے سے پہلے یہ پہلے نہ سوچا کیا حشر ہو گا
کسی میں محبت جگانے سے پہلے ابھی تھام دامن وہ مہتاب جا کر
تو بِگڑے ہوئے اس زمانے سے پہلے
(بشیر مہتاب)

Na Aany Ke Unn Ke Bahanay Bhi Dekhe'n / نہ آنے کے اُن کے بہانے بھی دیکھے

ﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﺑﮍﮮ ﺳﻨﮓ ﺩﻝ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍُﺩﮬﺮ ﺑﻠﺒﻠﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻗﻔﺲ ﮐﻮ
ﮐﮧ ﺻﯿﺎﺩ ﮔﺎﺗﮯ ﺗﺮﺍﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻼﻧﮯ ﺟﻮ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ
ﺍﺳﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮐﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻟﻮﭨﮯ
ﺳﺒﮭﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﻭﻗﺖ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﺍﭘﻨﺎ
ﺑﮩﺖ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
(بشیر مہتاب)

Hum Hatheli Pe Jaan Rakhtay Hai'n / ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہی

ﮨﻢ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺟﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ تیریﺍﻣﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﭼﻨﺪ اشکوں ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ صاحب
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﮨﻮ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﮨﻢ تو ﺩﻝ ﭘﺮ ﭼﭩﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺑﺲ ﺍﮎ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺖ ﮐﯿﺴﺎ ﮔﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﻄﻠﺐ
ﮨﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﺳﯿﻨﮧ ﺗﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﺷﺎﻃﺮ ﮨﯿﮟ وہ ﻣﺮﮮ ﮨﻤﺪﻡ
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﻭ ﮐﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ کاٹ ﻟﻮ "ﭘﺮ" ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ
ﺣﻮﺻﻠﻮﮞ میں ﺍﮌﺍﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﻣﺼﻠﺤﺖ ﺭﮨﯽ ﻣﮩﺘﺎﺏ
ﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
 - (بشیر مہتاب)

Maana Usko Gila Nahi'n Mujh Se / مانا اسکو گلہ نہیں مجھ سے

مانا اسکو گلہ نہیں مجھ سے
کچھ تو ھے جو کہا نہیں مجھ سے

حق نہیں دوستی کا ایسا کوئی
جوکہ اسکو ملا نہیں مجھ سے

دل ھی دل میں وہ بغض رکھتا ھے
جو بظاہر خفا نہیں مجھ سے

کچھ تو ھوگا ضرور اسکا سبب
   وہ جو اب تک لڑا نہیں مجھ سے

لاکھ پیچھا چھڑانا چاھا مگر
غم ھوا ھی جدا نہیں مجھ سے

کیسے رہ پائے گا وہ میرے بغیر
جو الگ ہی رہا نہیں مجھ سے

جو بظاہر خفا ھے اے مہتاب
وہ بہ باطن خفا نہیں مجھ سے (بشیر مہتاب)

Aaj Kal Ke Shabaab Dekhe'n Hai'n / آج کل کے شباب دیکھے ہیں

آج کل کے شباب دیکھے ہیں
سارے خانہ خراب دیکھے ہیں

پھول جیسے حسین چہرے بھی
ہائے سہتے عذاب دیکھے ہیں عشق کی راہ میں وہ لٹتے ہوئے
ہم نے لاکھوں جناب دیکھے ہیں ہے یہ الفت بھی کیا بلا صاحب
اس میں جھکتے نواب دیکھے ہیں ایک اک پل کو یاد رکھتے تھے
وہ تمہارے حساب دیکھے ہیں تم ہٹا دو یہ اپنے چہرے سے
ہم نے کافی نقاب دیکھے ہیں پہلے محسن تھے پھر بنے ظالم
لوگ ایسے عتاب دیکھے ہیں جس پہ مہتاب تم رہے مرتے
اب وہ ہوتے سراب دیکھے ہیں
(بشیر مہتاب)

Gazal - Zal'zala / غزل - زلزلہ

خاک نقشِ امان پل بھر میں
روتے دیکھا جہان پل بھر میں کیسے منظر سمائے نظروں میں
ریزہ ریزہ چٹان پل بھر میں اب لبوں پر رہے اسی کا نام
دیکھ لی رب کی شان پل بھر میں یک بیک مسکراہٹیں غائب
تن سے نکلی ہے جان پل بھر میں

ہنستے ہنستے ہی روپڑے یکسر
یہ زمیں آسمان پل بھر میں کوئی جائے پناہ مل جائے
پھنس گئی کیسے جان پل بھر میں ہے کہانی نہ کوئی افسانہ
بن گئی داستان پل بھر میں

کیسی پر شکوہ تھی عمارت وہ
ہے جو کھنڈر مکان پل بھر میں زلزلے نے یہ کیا کیا مہتاب
کیسے ہوگا بیان پل بھر میں
(بشیر مہتاب)

Ek Munaajaat - Dua - اک مناجات - دعا

الٰہی تو سب کی خطا درگذر کر
خدایا تو پیدا دلوں میں حذر کر سنا ہے کٹھن ہے وہ منزل لحد کی
تو آسان سب کا اے مولٰی سفر کر ہوئے فوت ہیں قلب یا رب ہمارے
تو اپنے کرم سے تو ان کو امر کر میں سب بھول جاؤں وفا اس جہاں کی
کہ بس تو ہی تو ہو زباں میں اثر کر ہوئے پھر سے پیدا نبی کے مخالف
تو زندہ وہ پھر سے علی کر عمر کر کہ بن جائے خادم ہمیشہ ہی تیرا
تو مہتاب پر عشق کا وہ اثر کر 
(بشیر مہتاب)

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

۔               
کہیں دریا کہیں دھارا کہیں پانی تھا بارش کا کہیں کاغذ کی کشتی تھی وہی تو یار بچپن تھا
کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی لڑنا کبھی گرنا شکایت بھی نہ کرتا تھا وہ کیسا یار بچپن تھا
کہ رونق ہر گھڑی ہوتی تھی میرے آشیانے میں نہ تھا دشمن کوئی اپنا وہ پر اسرار بچپن تھا
کہ کھیلا تھا کہیں ہم نے بھی کاغذ کے جہازوں سے بتائیں کیا ہمارا تو بڑا فنکار بچپن تھا
کبھی مٹی کے برتن تھے کبھی مٹی کی گڑیا تھی وہ ننھے سے کھلونوں کا بھی اک بازار بچپن تھا
وہ جس میں دودھ گھی یارو کھلاتی تھی ہمیں نانی جوانی اور نادانی میں وہ دیوار بچپن تھا
کبھی ہم ضد بھی کرتے تھے کبھی کہنا بھی مانا تھا کبھی آسان بچپن تھا کبھی دشوار بچپن تھا
جہاں سارا یہ عالم اک کُھلے دفتر کے جیسا تھا نہ تھی کوئی پریشانی گل و گلزار بچپن تھا
گیا ہاتھوں سے اک دم اس طرح پیارا مرا بچپن کہ جیسے تھا کوئی درہم کوئی دینار بچپن تھا
(بشیر مہتابؔ )

Urdu Ki Pehli Sahibe Dewaan Aurat - CHANDRA WATI Sahiba / ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺻﺎﺣﺐِ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﺷﺎﻋﺮﮦ - ﭼﻨﺪﺭﺍﻭﺗﯽ

ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺻﺎﺣﺐِ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﺷﺎﻋﺮﮦ
=================
ﺑﻠﺒﻞ ﮐﻮ ﮨﻮ ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻠﺰﺍﺭ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺪﺍ ﮨﮯ ﻣﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ
===
ﮨﻢ ﺟﻮ ﺷﺐ ﮐﻮ ﻧﺎﮔﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺷﻮﺥ ﮐﮯ ﭘﺎﻟﮯ ﭘﮍﮮ
ﺩﻝ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ ﺍﺏ ﺟﺎﻥ ﮐﮯ ﻻﻟﮯ ﭘﮍﮮ
===
ﺭﻭﺯِ ﺍﻭﻝ ﺟﻮ ﺟﺎﻡِ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﻼ ﺩﯾﺎ
ﺳﺮﺧﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺧﻤﺎﺭ ﮐﯽ
===
ﮔُﻞ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﭘﮧ ﺟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ
ﮨﺮ ﮐﻠﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ
===
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭼﺸﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﺟﺪﮬﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﻈﺮ ﮨﻢ ﮐﻮ === ﻗﻠﻤﯽ ﻧﺎﻡ ﭼﻨﺪﺍ ، ﻣﺎﮦ ﻟﻘﺎ ﺑﺎﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﭼﻨﺪﺭﺍﻭﺗﯽ ﻧﺎﻡ ﻭﺍﻟﺪ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺧﺎﮞ ﺷﺎﻋﺮ ﺣﯿﺪﺭ ﺁﺑﺎﺩ ﺩﮐﻦ , ﺑﮭﺎﺭﺕ

Ek Lamha Bhi Guzaaru Bhala Kyu'n Kisi Ke Saath / اک لمحہ بھی گزاروں بھلا کیوں کسی کے ساتھ

اک لمحہ بھی گزاروں بھلا کیوں کسی کے ساتھ
گزرے تمام عمر مری آپ ہی کے ساتھ

جب ہاتھ دوستی کا بڑھا یا خوشی کے ساتھ
اس نے مجھے قبول کیا خوش دلی کے ساتھ

دل سے کیا ہے یاد اُسے میں نے جب کبھی
اظہار - ہجر کرتی ہیں آنکھیں نمی کے ساتھ

اک بار میرے یار نے  ایسا کیا مزاق
اللہ رے نہ ہو کبھی ایسا  کسی کے ساتھ

 اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے
ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ

باقی رہی ہے  دل میں یہ  حسرت تمام عمر
مہتاب کا دیار ہو اُس کی گلی کے ساتھ (بشیر مہتاب)