Na Aaya Tarass Aazmanay Se Pehlay / نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے

نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے
ذرا بھی نہ سوچا بھلانے سے پہلے
جو اشکوں کے گرنے سے ڈرتی تھی بے حد
اسے تھامتے تم رلانے سے پہلے
تڑپ اس کے اندر تھی بدلے کی لیکن
نہایت وہ روئی رلانے سے پہلے
مرے قلب تیری خطائیں ہیں ساری
ذرا فکر کرتا بھلانے سے پہلے
بہت ہی کٹھن راستہ ہے وفا کا
ذرا سوچتے دل لگانے سے پہلے
یقیناً ہی سو بار سوچے گا وہ بھی
صنم فون میرا اٹھانے سے پہلے
خیال اپنے اشکوں کا رکھنا تھا تم کو
خیالی فسانہ سنانے سے پہلے
یہ پہلے نہ سوچا کیا حشر ہو گا
کسی میں محبت جگانے سے پہلے
ابھی تھام دامن وہ مہتاب جا کر
تو بِگڑے ہوئے اس زمانے سے پہلے

(بشیر مہتاب)

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے