Aaj Kal Ke Shabaab Dekhe'n Hai'n / آج کل کے شباب دیکھے ہیں

آج کل کے شباب دیکھے ہیں
سارے خانہ خراب دیکھے ہیں

پھول جیسے حسین چہرے بھی
ہائے سہتے عذاب دیکھے ہیں
عشق کی راہ میں وہ لٹتے ہوئے
ہم نے لاکھوں جناب دیکھے ہیں
ہے یہ الفت بھی کیا بلا صاحب
اس میں جھکتے نواب دیکھے ہیں
ایک اک پل کو یاد رکھتے تھے
وہ تمہارے حساب دیکھے ہیں
تم ہٹا دو یہ اپنے چہرے سے
ہم نے کافی نقاب دیکھے ہیں
پہلے محسن تھے پھر بنے ظالم
لوگ ایسے عتاب دیکھے ہیں
جس پہ مہتاب تم رہے مرتے
اب وہ ہوتے سراب دیکھے ہیں

(بشیر مہتاب)

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے