Gazal - Zal'zala / غزل - زلزلہ

خاک نقشِ امان پل بھر میں
روتے دیکھا جہان پل بھر میں
کیسے منظر سمائے نظروں میں
ریزہ ریزہ چٹان پل بھر میں
اب لبوں پر رہے اسی کا نام
دیکھ لی رب کی شان پل بھر میں
یک بیک مسکراہٹیں غائب
تن سے نکلی ہے جان پل بھر میں

ہنستے ہنستے ہی روپڑے یکسر
یہ زمیں آسمان پل بھر میں
کوئی جائے پناہ مل جائے
پھنس گئی کیسے جان پل بھر میں
ہے کہانی نہ کوئی افسانہ
بن گئی داستان پل بھر میں

کیسی پر شکوہ تھی عمارت وہ
ہے جو کھنڈر مکان پل بھر میں
زلزلے نے یہ کیا کیا مہتاب
کیسے ہوگا بیان پل بھر میں

(بشیر مہتاب)

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے