Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

۔               

کہیں دریا کہیں دھارا کہیں پانی تھا بارش کا
کہیں کاغذ کی کشتی تھی وہی تو یار بچپن تھا

کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی لڑنا کبھی گرنا
شکایت بھی نہ کرتا تھا وہ کیسا یار بچپن تھا

کہ رونق ہر گھڑی ہوتی تھی میرے آشیانے میں
نہ تھا دشمن کوئی اپنا وہ پر اسرار بچپن تھا

کہ کھیلا تھا کہیں ہم نے بھی کاغذ کے جہازوں سے
بتائیں کیا ہمارا تو بڑا فنکار بچپن تھا

کبھی مٹی کے برتن تھے کبھی مٹی کی گڑیا تھی
وہ ننھے سے کھلونوں کا بھی اک بازار بچپن تھا

وہ جس میں دودھ گھی یارو کھلاتی تھی ہمیں نانی
جوانی اور نادانی میں وہ دیوار بچپن تھا

کبھی ہم ضد بھی کرتے تھے کبھی کہنا بھی مانا تھا
کبھی آسان بچپن تھا کبھی دشوار بچپن تھا

جہاں سارا یہ عالم اک کُھلے دفتر کے جیسا تھا
نہ تھی کوئی پریشانی گل و گلزار بچپن تھا

گیا ہاتھوں سے اک دم اس طرح پیارا مرا بچپن
کہ جیسے تھا کوئی درہم کوئی دینار بچپن تھا

(بشیر مہتابؔ )

Comments

Post a Comment

POPULAR POSTS:

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے