Zulmat Se Aik Roz Ujaalay Mai'N Aa Gaye / ظلمت سے ایک روز اُجالے میں آ گئے

ظلمت سے ایک روز اُجالے میں آ گئے
جب دھوپ نے ستایا تو سائے میں آ گئے

خوابوں کا خانہ ڈھ گیا ہم کچھ نہ کر سکے
دو چار اشک تھے وہ بھی  ملبے میں آگئے

جب تذکرہ ہوا ہے شکستہ  وفاؤں کا
  کچھ میرے ساتھ آپ بھی  قصے میں آگئے

تب  کون سی گھڑی تھی وہ ہائے بُری گھڑی
"ہم اک حسیں بہار کے دھوکے میں آ گئے"

خوشیاں تو میری راہ سے یکدم گزر  گئیں
دکھ بے شمار تھے مرے حصے میں آگئے

صورت کوئی نکلنے کی آئی نہیں نظر
ہم بد نصیب جب ترے گھیرے میں آگئے

بشیر مہتاب

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے