Jab Se Mere Raqeeb Ka Rassta Badal Gaya / جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا

جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا
تب سے مرے نصیب کا نقشہ بدل گیا

شیریں تھا کتنا  آپ کا  اندازِ گفتگو
دو چار سکے آتے ہی لہجہ بدل گیا

کس کی زبان سے مجھے دیکھو خبر مجھے
کیسے مرے حریف کا چہرہ بدل گیا

اُن کے بدلنے کا مجھے افسوس کچھ نہیں
افسوس یہ ہے اپنا ہی سایہ بدل گیا

جب سے بڑوں کی گھر سے حکومت چلی گئی
جنت  نما مکان کا   نقشہ بدل گیا

راہوں کی خاک چھانتا پھرتا ہوں آج تک
"رہبر بدل گیا کبھی رستہ بدل گیا"

کہتاہے اسکےجانے سے کچھ بھی نہیں ہوا
 مہتاب ..جبکہ دل کا وہ ڈھانچہ بدل گیا

بشیر مہتاب

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Ye Kon Aagaya Hai Ye Kaisi Bahaar Hai / یہ کون آگیا ہے یہ کیسی بہار ہے