Rukh Tumhaara Ho Jidhar Hum Bhi Udhar Ho Jaaye'N Ge / رخ تمہارا ہو جدھر ہم بھی اُدھر ہو جائیں گے

 رخ تمہارا ہو جدھر ہم بھی اُدھر ہو جائیں گے
تم سے بجھڑینگے اگر تو دربدر ہو جائیں گے

زندگانی کے سفر میں لطف تب ہو گا نصیب
"ہم خیال و ہم نوا جب ہمسفر ہو جائیں گے"

آسمانوں کا سفر ہم طے کریں گے ایک روز
جب ہمارے حوصلوں میں بال و پر ہو جائیں گے

سادگی یوں ہی اگر لادے رہےتو ایک دن
سب تمہارے  اپنے تم سے بے خبر ہو جائیں گے


دیکھنا جس دن انہیں مقصد سمجھ میں آئے گا
منزلوں کی جستجو میں رہ گزر ہو جائیں گے


پودے ہیں اردو ادب کے آب و دانہ ڈالئے
آنے والے کل میں سائے اور ثمر ہو جائیں گے


ساقی ساغر کی ضرورت ہے کہاں میرے لئے
تیری آنکھوں کےہی پیالے پراثر ہو جائیں گے

وہ نہ جائیں گے کبھی مہتاب ظلمت کی طرف
وقت پر انجام سے واقف اگر ہو جائیں گے

بشیر مہتاب


Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Ye Kon Aagaya Hai Ye Kaisi Bahaar Hai / یہ کون آگیا ہے یہ کیسی بہار ہے