Ae Meri Pyaari Baaji / اے میری پیاری باجی


اے میری پیاری باجی ہم تم جُدا نہیں ہیں
جائے جہاں کہیں بھی رکھے خدا سلامت
جب آئے یاد میری بس اتنا یاد رکھنا
تم آنکھیں بند کر نا پھر دل سے یاد کرنا
کوئی بھی کام ہو گا ہوگی کہیں ضرورت
تم جب مجھے پکارو چوکھٹ پہ آ گروں گا
ڈولی تمہیں بٹھا کر میں تو ہوا ہوں واپس
تم تو چلی ہو پر دل تم سے جدا کہاں ہے
امی وہاں نہ ہوگی بابا وہاں نہ ہوں گے
آئے کوئی بھی مشکل فریاد رب سے کرنا
نخرے اُٹھائے ہم نے کی خواہشیں بھی پوری
اب مانگنا اسی سے تم جس کی ہو چلی ہو
آئے نہ یاد تم کو سسرال میں ہماری
اب تیرے جو ہوئے ہیں بس اُن کو تم پکارو
تیرے بڑوں کا سایہ تجھ پہ رہے ہمیشہ
رب شاد تم کو رکھے خوشیاں ملیں ہزاروں
بس آخری نظر تم دیکھو یہ آشیانہ
بچپن کے جس میں گذرے اتنے حسین لمحے
اے میری پیاری باجی ہم تم جدا نہیں ہیں
جائے جہاں کہیں بھی رکھے خدا سلامت 

(بشیر مہتاب)                                          

Comments

POPULAR POSTS:

Gazal -Bachpann / غزل - بچپن

Mera Nahi Raha Tu, Mai Tera Nahi Raha / میرا نہیں رہا تُو, میں تیرا نہیں رہا

Haseen Dil Ruba Chandni Gulbadan Hai / حسیں دلربا چاندنی گل بدن ہے

Yaar Be-Khabar Ho Tum / یار بے خبر ہو تم

Sab ki mojudgi samjhta hai/ سب کی موجودگی سمجھتا ہے